What is the Process of curriculum development📕✒️||Overview of the Curric...
تدوین نصاب کاعمل📚
Process of Curriculum Development🧑🎓
سوال - نصاب کی ترقی کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ 📕
What are the major tasks in Curriculum development? ✒️
نصاب کی اہمیت📒
;جواب
نصاب ایک راستہ ہے جس پر چل کر ایک طالب علم اپنی تعلیمی منزل تک پہنچتا ہے۔ نصاب سے مراد وہ تمام سرگرمیاں میں جوتعلیمی ادارے کے اندر یا باہر مقاصد تعلیم کے حصول کے لئے طلبہ کے لئے تشکیل دی جاتی ہیں جنہیں اپنا کر طلبہ کوتعلیم یافتہ اور باشعور شہری بنایا جا تا ہے ۔ نصاب ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کوئی بھی نظام تعلیم اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے اور ان مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ
نصاب کی تدوین کی جاتی ہے۔تدوین وترقی نصاب کے اہم مقاصد:
تو میں اپنے اپنے فلسفہ حیات کی روشنی میں مقاصد تعلیم کا تعین کرتی ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے جن سرگرمیوں اور مہارتوں کا انتخاب کیا جا تا ہے وہ نصاب کہلاتی ہیں ۔ مقاصد کے تعین کے بعداس امر کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ان مقاصد کو کیسے حاصل کیا جاۓ اس کے لئے نصاب تشکیل دیا جا تا ہے ۔ ماہرین کے مطابق نصاب کی ترقی یا تدوین نصاب کے مقاصد درج ذیل ہیں۔
قومی خواہشات کی تکمیل
کردار سازی اور نصاب
کائنات کے بارے میں ادارک اور نصاب
اقدار کا فروغ اور نصاب
تحمیل ذات اور نصاب
اجتماعی ترقی کا ضامن
معاشرتی تشکیل نو اور نصاب
انفرادیت کی نمو اور
عالم گیریت اور نصاب
قومی خواہشات باتر نجات کی تکمیل نصاب کا سب سے اہم مقصد قومی خواہشات کی تحصیل ہے۔ ہر قوم ایی قوی تماشات و ترجیحات
تعین کرتی ہے اور وہ ان خواہشات کی تکمیل کے لئے ممکن کوشش کرتی ہے۔ اس میں سب سے اہم کردان طلایی کلام ادا کرتا ہے اس لئے اس نظام کو موثر سے موٹر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اورتعلیمی نظام میں نساب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ نصاب تعلیمی عمل کی روح ہے ۔ اگر مل تعلیم میں سے نصاب خارج کردیا جائے تو وہ اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھے ۔ تدوین انساب کے عمل کے دوران کوشش کی جاتی ہے کہ نصاب میں انفرادی اور قومی خواہشات کو منعکس کیا جائے ۔ اگر نصاب قومی امنگوں کی ترجمانی نہ کر سکے تو ایسا نصاب انفرادی یہود کی ذمہ داری نبھانے کا بھی اہل نہیں ہوتا۔ نصاب میں ہی قومی خواہشات سموئی جاتی ہیں اور تدریسی عمل کے ذریعے ان کے حصول کو یقینی بنایا جا تا ہے ۔
کردار اور نصاب📒
نصاب کردار سازی کے عمل میں بھی انام کردار ادا کرتا ہے ۔ نصاب کے ذریعے ہی کردار میں مطلوبہ تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں معاشرتی مطابقت کے قابل بنایا جا تا ہے۔ یہی افراد معاشرے میں اہم کردار ادا کر نے کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کی ترقی کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب فرد کے کردار میں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو وہ خود اپنے لئے اور قوم کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے تدوین نصاب کے عمل کے لئے انتہائی ماہر افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو معاشرے اور ملک وقوم کے نظریات کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہوں تا کہ نصاب سازی کے ذریعہ کردار سازی کے مقاصد حاصل کی جاسکیں ۔
کائنات کے بارے میں ادارک اور نصاب🌍
: بلاشبہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ نوجوان ن کو کائنات کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کس طرح سے علم دیا جا سکتا ہے؟ اس مقصد کے حصول کے لئے نصاب انتہائی موثر ذرایہ ہے۔ نصاب کے ذریعے حاصل کیا گیا علم انسان کے لئے کائنات کے اور اک باعث بنتا ہے۔ اس کا ئنات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے ۔ اس لئے دنیا کا ہر نظام تعلیم اپنے طلبا میں کائنات کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ دنیا میں ترقی کا عمل اور دوسرے ممالک کے ساتھ مقابلہ اس کے بغیر ممکن نہیں رہا اور اس وقت انسان کی فکری جدو جہد کا سلسلہ آسان کی وسعتوں اور سمندر کی گہرائیوں تکتحصیلات اور طریق کار کو نصاب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
اقدار کا فروغ 🖋️
تمام اقوام عالم الی قومی اقدار و معاشرتی ضروریات و پیش نظر رکھتے ہوئے قوی نظامی مقاصد لے کرتی ہیں۔ ان مقاصد کے ذریعے تعلیم کو نصب این ملتا ہے ۔ یہ نصب العین نصاب کے ذری حاصل ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقاصد تعلیم کی حیثیت ایک منزل کی ہے اور نصاب اس حول تک پہنچنے کا ذرایہ ہے۔ ہرقوم جب اپنے قومی مقاصد کا تعین کر لیتی ہے تو ان کے حصول کے لئے عملی پروگرام بھی تشکیل دیتی ہے ہی پروگرام نصاب ہوتا ہے جو قدار کے فروغ کے عمل کو جاری رکھتا ہے۔
تحمیل ذات اور نصاب✨
نصاب کا ایک مقصد ایسے مواقع اور سرگرمیوں کا بندو بست کرتا ہے جن کے باعث فرد تکمیل ذات کے مختلف مراحل طے کر کے انفرادی اور اجتماعی سطح پر نہ رہنے کا جواز پیدا کر سکے ۔ دراصل تحمیل ذات ایکہ پنی کیفیت کا نام ہے ۔ ہر پیدا ہونے والا بچہ مختلف حالات واقعات ، تجربات اور مشاہدات سے گز رگرایی ذات سے آگاہی حاصل کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرتا ہے اور جب تعلیم کا اہم مقصد تحمیل ذات قرار پائے تو اس کے حصول کا واحدا اہم ترین راستہ نصاب رہ جا تا ہے ۔
اجتماعی ترقی کا ضامن👩💻
نصاب انفرادی اور اجتماعی ترقی کا ضامن ہے ۔ اس اہم ترین ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے نصاب طلبہ کو ایسی معلومات اور مہارتوں سے لیس کرتا ہے جن سے زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کے راستے کھل جائیں۔ایسا نصاب جو تمام معاشرے کی نمائندگی نہ کرے اور نہ ہی انفرادی سطح پر شخصیت کی نموکرے ایسا نصاب کا میاب نصاب نہیں کہلا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب میں شامل تمام پہلوؤں میں جامعیت ہونی چاہیے تا کہ نصاب سے مسلک تمام مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے ۔
معاشرتی تشکیل نو اور نصاب 📚
معاشرہ بھی جان نہیں ہوتا بلکہ اس میں تبدیلیوں کا عمل جاری رہتا ہے جس کی بڑی وتحقیقی عمل ہے۔ آج ہر شعبہ زندگی میں تحقیقی عمل جاری ہے جس کے اثرات معاشرے پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔ جدید دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی نے بھی معاشرے پر اپنےاثرات مرتب کئے ہیں یہاں تک کہ معاشرے میں رہنے والے افراد کے رویے تک تبدیل ہو گئے ہیں ۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں نصاب ہی کے ذریعے معاشرے کو تیار کیا جا سکتا ہے اور معاشرے کا وجود صرف اسی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے جب معاشرتی اقدار کو معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاۓ یہی چیز تشکیل نو ہے جو نصاب کا اہم فریضہ
انفردیت کی نمو اور نصاب✒️
جہاں نصاب اجتماعی ترقی کا ضامن ہے وہیں اس کے ذریعے انفرادیت کی نمو بھی ہوتی ہے۔ نصاب ہی فرد کی انفرادی سوچ اور رسائی میں وسعت کا باعث بنتا ہے ۔اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں پایا جا تا کہ ہر فر د مختلف صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے اور نصاب کے ذریعے ان صلاحیتوں کی ٹھوکر کے فرد کی انفرادیت کو انفرادی اور اجتماعی بہبود کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ نصاب میں ایسی تمام سرگرمیوں کو شامل کیا جا تا ہے جن سے گزرکر فرد کی صلاحیتیں نمو پاتی ہیں اور وہ قوم کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دینے کے قابل بنتا ہے۔ و توازن اور نصاب:
فرداور معاشرہ جہاں لازم وملزوم ہیں و ہیں ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں اور معاشرتی بقا صرف اسی صورت ممکن ہے جب فرد اور معاشرے کے درمیان توازن کی فضا قائم ہو ۔ جب دونوں کے درمیان کلش پیدا ہو جائے تو انفرادی اور معاشرتی ترقی کاعمل رک جاتا ہے ۔ نصاب انفرادی اور اجتماعی ضروریات کو پیش نظر رکھتا ہے اور فرد کو معاشرتی تقاضوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ معاشرے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرد کی ضروریات کا خیال رکھے ۔ اس لحاظ سے معاشرے کے درمیان توازن قائم کر نا نصاب کی ایک اہم ذمہ داری ہے ۔
عالمگیریت اور نصاب🎯
دنیا میں کیا ہورہا ہے اور کوئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ان کا ادراک بھی نصاب کے ذریعے کیا جا تا ہے اور نصاب فردکو عالمی تقاضوں کا ساتھ دینے کے قابل بنا تا ہے ۔ جدید دور میں ہونے والی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کا منظر نامہ بدل دیا ہے اور اب دنیا ایک عالمی گاؤں کی صورت اختیار کرگئی ہے اور بلاشبہ ہم مقامی سوچ کے ساتھ عالمی تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتے اور نہ ہی دنیا کے دوسرے ممالک سے علیحدہ ہو کر زندہ رہ سکتے ہیں۔ نصاب فردکو اس قابل بنا تا ہے کہ وہ جدید تقاضوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرسکے اوراپنی انفرادیت برقرارر کے۔
حاصل بحث🎍
نصاب کی ترقی کے اہم مقاصد کا بغور جائز و لینے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان اور معاشرے ۔ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا بنیادی پہلو نصاب ہی ہے ۔ اس لئے تمام قو میں تدوین نصاب کے مرحلے پر معاشرے اور فرد کی انفرادی ضروریات اور تقاضوں کو مدنظر رکھتی ہیں اور ایسا نصاب تیار کیا جا تا ہے جس کی مدد سے فرد اور معاشرے کوترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے
Comments
Post a Comment