|Theories | and | Principles | of | Learning |
تعلمی نظریات و اصول
(Theories and Principles of Learning)
ہم کیسے سیکھتے ہیں؟ اس ضمن میں اگر مختلف قسم کے نظریات موجود ہیں تو عمل تعلم کے حوالے سے بھی کافی قسم کے نظریات سامنے آچکے ہیں ۔ ان نظریات کو ان کے متعلقہ تصورات کے لحاظ سے ممکنہ طور تین
اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
تحریک اور رڈل (Stimulus and Response)
باہمی تعلق پرانی عمل تعلم بے مقصد اور غیر موثر عادات پیدا کرتا ہے اور مشروط ہوتا ہے۔
تعلم بذر یہ بصیرت(Learning by Insight):
یہ نظر یہ گٹالٹ (Gestalt) کے نظریے سے اخذ کیا گیا ہے جس کے مطابق تجربات معلومات
اور سرگرمیوں کو ایک ایسے شعبے یا نمونے میں اکٹھا کر لیا جا تا ہے جو طالبعلم کے لیے کیا ہو۔ اس نظریے کے
تحت مجموعی طور پر صورت حال کا ادراک کرنے کی سعی کی جاتی ہے علم بذر میدانعکاس مشروط (Connectionism): اس طریقے کے تحت کوئی خاص حرکت اپنے اصلی سبب کی بجائے کسی دیگر وجہ سے مک کوار ہے۔ تعلم یا کار کردگی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ تعلم کامل اس وقت واقع ہوتا ہے جب کردار میں تہراس ہوتی ہے ۔ بہر حال نصاب کی تدریس کے عملی مقاصد کے لحاظ سے تعلیم کے مندرجہ ذیل مارنظر یا مشہور ہیں:) 22 Heaching 121 3 1 تحریک اور رڈل کا اصول (The Stimulus-Response Principal یہ نظر یہ تھارنڈ ائیک (Thorn dike) کے تصور کوشش اور ملی‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ ہو۔ تصور کے تحت تعلیم کی ایک بہترین مثال بچے کی طرف سے لفظ ” گھر کے درست ہے یاد کرتے ہو ہے۔ ابتدائی طور پر بچہ گھر کے بچے یاد کرتے ہوئے محض کو کہتا ہے اور حرف را حذف کر جا تا ہے ۔ عمل کے ذریعے بچے نے لفظ ” گھر کے لیے یاد کرنے کی کوشش میں غلطی کی جس کی طرف اس کے او نے توجہ دلائی ۔ اگلی دفعہ بھی بچہ اس لفظ کے بیچے کرتا ہے اور وہی غلطی پھر دہراتا ہے۔۔ یعنی حرف " نہیں پاتا ۔ اس دفعہ استاد بچے سے کہے گا کہ دو یہ لفظ درست انداز میں دیں دفعہ لکھے ۔اس طرح ہے ۔ ذہن میں اس غلطی کا احساس پیدا ہو جائے گا جود و لفظ ”گھر کے نیچے کرتے وقت کرتا ہے۔ جب دو اس کو کے درست بچے کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ انعام کے طور پر اسے دیگر طلبہ کے ساتھ سکول سے پھر دے دی گئی ہے اور یہ لفظ دوبارہ لکھنے کے لیے اسے سکول رکھنے کے لیے نہیں کیا گیا۔ یوں اس کو اور غلطی سے عمل کے ذریعے بچہ اپنا مطلوبہ مقصد یعنی گھر کے درست ہے یاد کرنے میں کامیام ہو جا تا ہے۔ تعلم کا یہ طریقہ وقت طلب لیکن ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس کے ذریعے تمام بچے کچھ تصویر چیریں اور الفاظ سیکھتے ہیں۔ 99-22
2- تعلم بذریہ بصیرت(Learning by Sight):
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ماہرین نے تعلیم کے بے شمار طریقوں کے تجربات کیے ہیں جو میں سے ایک طریقہ تعلم بذریہ بصیرت بھی ہے ۔ اس ضمن میں اگر کوشش اور غلطی کے تصور کے تحت تعلم کی مثال سامنے رکھی جائے تو اس طریقے کے مطابق بچے کو گھر کی تصویر دکھائی جائے گی رات لفظ گھر سنایا جائے گا ۔ پھر بچہ اس لفظ کو مختلف طریقوں کے ذریعے کئی بار دہرائے گا اور اس طرح مجھ جائے گا کہ لفظ ” گھر کے کیا معنی ہیں ۔ اس طرح بچے کو یہ لفظ کئی بار اورکئی مقامات پرلکھا ہوا ملے گا۔ پھر بچےکو اس امر کا ادراک ہو جائے گا کہ سیالفظ گھر کسی قسم کے استعمالات کے لیے ہے ممکن ہے کہ چاپ خود سے منسلک ۴ سال ار میں تبدیلی واقع هار نظریات بود سحر نصاب سازی دانسٹرکشن (838) برائے ایم ایم ایم ۔اے ایجوکیشن اس لفظ کی تصویر بنائے ،وہ اس لفظ کے لیے دیکھے اور اسے کئی بار درست بچوں کے ساتھ لکھے۔ بالاخر بچے گھر کو بالکل صحیح طور پر لکھنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس کی حالت قدیم یونانی سائنسدان ارشمیدس
سے کم نہ ہوگی جس نے ایک سائنسی مسئلے کول کرنے کی کئی بار کوشش کی اور آخر کار یہ کہنے لگا میں نے اس
مسئلے کا حل تلاش کر لیا ۔ اس طرح بچے کو بالکل درست طور پر ان گھر کے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے علم
ہو جاۓ گا ۔اسے Problem Solving" "طریقہ بھی کہا جاتا ہے۔
3- تعلم بذر بید مشروط رول(The Stکیا گیا ہے۔ اس باد کر نے پنی (The Theory of Learning by Conditioned Response): نظر تعلم مضبوط حیاتیاتی بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ متعدد ماہرین نفسیات کے تجربات بتاتے ہیں کہ مشروط رال کے باعث بچوں میں کئی قسم کی عادات پیدا کرنے کے علاوہ کئی قسم کی عادات اور بھی کی جاسکتی ہیں۔ تعلم کے اس تصور کا انحصار اس اعتقاد پر ہے کہ ہرانسان عمل کے جواب میں رو عمل کا اظہار کرتا ہے ۔ سیمل با تحر یک واحد یا کثیر بھی ہوسکتی ہے ۔اس طریقے کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جب ایک بچہ گتے کے ایک ٹکڑے پر ان گھر لکھا ہوار کھتا ہے اور وہ سیلفظ کہنے کی کوشش کرتا ہے تو اس لفظ' دیکھتا میں ایک تحریکی ریمل پیدا ہوتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ایک نیا لفظ سیکھا ہے اور وہ اسے بخوشی بار بارہ ہراتا ہے۔ سہیل خاص طور پر اس وقت واقع ہوتا ہے جب اس کی عمر بہار اور آٹھ سال کے درمیان ہوتی ہے ۔ بچے کا مشاہد و کر نے والے والدین اس بات کومحسوس کرتے ہیں کہ بچہ ایک نئے لفظ کو اس وقت تک ہلکی آواز میں دہراتا رہتا ہے جب تک مطلوبہ لفظ اس کی زبان پر نہیں چڑ ھا جا تا ۔ جب وہ اس لفظ کے استعمالات سے بخوبی واقف ہو جاتا ہے تو دوا سے بلند آواز سے بولتا ہے ۔سے جاتا ہے ۔اس ۔ ان کے استار حرف را کے ب وہ اس و سے چھٹی س کوششم کامیاب کو مخصوصاس طریقہ علم کی بہترین مثال ملازمین سے بھرے دفتر کے حوالے سے دی جاسکتی ہے ۔ ہر ملازم وتر میں ہونے والے قسم قسم کے شور مثلا افراد کی طرف سے بولنے کی آواز میں امیرکنڈیشنر چلنے کی آواز مختلف مشینیں چلنے کی آوازوں کے باوجود اپنے اپنے میز پر اپنے اپنے حصے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔ جب ایک نئی سیکرٹری دفتر میں آتی ہے تو ابتدائی طور پر اسے اپنے کام میں بہت مشکل پیش آتی ہے اور وہ مختلف ٹیلیفون کالوں کے جواب میں درست رومل ظاہر نہیں کرسکتی۔ لیکن دو ہفتے کی مشق کے بعد بھی سیکرٹری اپنے کام میں اس قدر ماہر ہو جاتی ہے کہ دفتر میں بھیٹر بھاڑ شور شرابے کے باوجود اپنا کام احسن انداز میں انجام دیتی ہے۔افراد ہرقسم کے حالات میں اپنا کام تسلی بخش انداز میں سرانجام دیتے ہیں۔ کے علم کے تصور کو اچھی طرح سمجھ جائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کچھ بچے کمرۂ جماعت میں کی کا شور کیوں پسند نہیں کرتے۔ ممکن ہے کہ ان کے ماضی میں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا ہو جس آئیں کوئی خاص قسم کے شور سے نفرت ہو ۔ ه اورا کی تعلیم کا نظریہ (of Learning by Self-Perception :
اورا کی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ہرقسم کا انسانی رومل اور رویہ کسی زار میں عمل کار فیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی شخص کے رول کا انحصار اس خاص دور پیش آنے والے واقعہ پر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم اس کے کردار کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ہم مختص کی فطرت کی اورا کی سوچ کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس لفظ کے معنی کو جانتے ہوۓ کہ جو ایک خاص عمر لیے ہیں، ہم اس وقت اس قسم کے حالات پیدا کر سکتے ہیں جن کے ذریعے اس شخص کے کرداراد میں تبدیلی رونما ہو سکتی ہے ۔تعلم کا یہ نظر یہ اپے عملی اطلاق کے لحاظ سے دیگر تمام نظریات سے زیادہ جامع ہے ۔مثال طور پر جب ایک بچہ لفظ ” گھر کے معنی جان لیتا ہے کہ دو تو اس گھر میں رہتا ہے۔ پھر اسے محسوس ہوتا ۔ اس کا دوست بھی اس کے ساتھ والے گھر میں رہتا ہے، اگر یہ گھر اس کے گھر سے دگنا بڑا ہے۔ پھر وز اپنے گھر کی ڈرائنگ کرتا ہے، پھر اپنے دوست کے گھر کی ڈرائنگ کرتا ہے، پھران میں بھرتا ہے۔ مزید برآں جب اس بچے کو ٹر یہ سکھنے کے لیے مزید راہنمائی اور مواقع میسر آتے ہیں تو والی کے متبادل نا مکھی سیکھ جاتا ہے۔تعلم کے لحاظ سے مشترکہ عناصر (Common Factors in Learning):مندرجہ بالا علمی نظریات پر نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں کچھ مشتر کہ عناصرتعلم کے لیے تحریک بارفیت جس میں پیاپی تعلم کے لیے آمادگی پچیس عملی سرگرمی استجواد مندی شامل ہیں۔
کسی چیز کے سیکھنے یا کامیابی حاصل کرنے پرصلہ باتسکین کا حصول۔ نشو ونما کامل نیورون بود باغ اور مرکزی عصبی نظام میں آمدورفت کے دوران مرکش رہےتاکہ عصبی نظام متحرک ہو گئے۔ پانی چھٹی کے باعث بھی ان پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بلا شبہ نصابی کام کی اہم خصوصیت اور اہمیت یہ ہے کہ ایک طالبعلم اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کر لیتا ہے۔ مکمل تعلم میں مصنوعی تحریک یعنی سزا کی نسبت قدرتی تحریک یعنی کیا ہی کہیں زیادہ موڑ ہے۔ جب طلبہ اپنا سبق یاد کرتے ہیں تو اساتذہ اکثر انہیں انعام سے نوازتے اور سبق یاد نہ کرنے پر سزا دیتے ہیں ۔ تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ حمل تعلم میں انعام کی بہت زیادہ اہمیت جبکہ سزا کی بہت کم اہمیت ہے۔ اس مرحلے پر نصاب کے مرتبین کو چاہیے کہ وہ اس امر کوڈ بہن نشین کرلیں کہ ہر بچہ ایک حیاتیاتی جسم ہے جو اپنے ماحول یا ثقافت میں زندہ ہے اور وہ ان حالات میں زیادہ سکھے گا جب اس کے اہداف ومقاصد اس کے سامنے ہوں گے۔ مثال کے طور پر جب ایک لڑکار بدیع بنانے کا خواہشمند ہے تو وہ کچھ اصول با علم طبیعات سیکھے گا حالانکہ ٹیلی منصوبہ بندی اور ریڈیو بنانے کے ذریعے وہ کمرہ جماعت کے معمول کی نسبت ریڈیو بنانے کا طریقہ زیادہ بہتر اور موثر طور پر سیکھ سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment