The “whole word” or “look-say” approach to teaching reading, LEARNING BY...
علم بذریعہ بصیرت(Learning by Sight)
۱۹ ۰۴ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ماہرین نے تعلم کے بے شمار طریقوں کے تجربات کیے ہیں جن میں سے ایک طریقہ "تعلم بذریہ بصیرت بھی ہے ۔ اس ضمن میں اگر کوشش اور غلطی کے تصور کے تحت تعلم کی مثال سامنے رکھی جائے تو اس طریقے کے مطابق بچے کو گھر کی تصویر دکھائی جائے گی ،اسے لفظ ”گھر سنایا جائے گا ۔ پھر چہ اس لفظ کو مختلف طریقوں کے ذریعے کئی بار دہراۓ گا اور اس طرح سمجھ جاۓ گا کہ لفظ گھر کے کیا معنی ہیں ۔اسی طرح بچے کو سیافظ کئی بار اور کئی مقامات پرلکھا ہوا لے گا ۔ پھر بچےکو اس امر کا ادراک ہو جائے گا کہ سیلفظ ”گھر کس قسم کے استعمالات کے لیے ہے ممکن ہے کہ بچہ اب خود اس لفظ کی تصویر بنائے ، وہ اس لفظ کے بیچے دیکھے اور اسے کئی بار درست بچوں کے ساتھ لکھے۔ بالاخر بچہ لفظ ”گھر کو بالکل صحیح طور پر لکھنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس کی حالت قدیم یونانی سائنسدان ارشمیدس سے کم نہ ہوگی جس نے ایک سائنسی مسئلے کومل کرنے کی کئی بار کوشش کی اور آخر کار یہ کہنے لگا ” میں نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا ۔ اس طرح بچے کو بالکل درست طور پر لفظ " گھر کے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے علم ہو جاۓ گا ۔ اسے Problem Solving" " طریقہ بھی کہا جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment