Foundations of Curriculum Development


تعلیم کو اگلی نسلوں تک منتقل کرتا ہے ۔ معاشرہ تعلیم وتربیت کے ذریعے بچوں کو ساہی اداب سکھا تا ہے۔ اس مقصد کو منظم انداز میں سرانجام دینے کے لئے معاشرہ تعلیمی ادارے اور در سگا میں قائم کرتا ہے ۔ جن میں ایسی سرگرمیاں اور تجربات کا اہتمام ایک معاشرتی عمل ہے ۔اور مدرسہ معاشرتی تربیت گاہ تعلیم کے ذریعے معاشرہ اپنی ہے۔اور معاشرتی اقدار تہذیب وتمدن اور ثقافت کیا جا تا ہے ۔ جن سے گزر کر طلبہ کامیاب معاشرتی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں ۔ ان سرگرمیوں اور تجربات کے مجموعے کو نصاب کیا جاتا ہے۔ مشہور مفکر جان ڈیوی کا کہنا ہے کہ

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ معاشرہ جامد نہیں ہوسکتا یہ ہمیشہ تغیر پذیر ہتا ہے اور اس میں تبدیلیوں کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس لئے تدوین نصاب کے ہر مر حلے پر معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ خاص طور پر وولوگ جو نظام تعلیم سے وابستہ ہوتے ہیں اور جن کا کام نصاب تعلیم تیار کرنا ہوتا ہے ان کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کا بغور جائزہ لینے کا عمل جاری رکھیں تا کہ نصاب تعلیم ترتیب دیتے وقت ان تبدیلیوں کو اس کا حصہ بنایا جا سکے ۔ ہر معاشرے کی اپنی معاشرتی قدر میں ہوتی ہیں جن کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے اور نصاب کے موضوعات اور عنوانات ان معاشرتی قدروں سے ہم آہنگ ہوں اگر ان میں تضاد پیدا ہو جائے تو اس کے منفی نتائج برآمد ہو گئے ۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آغاز میں نصاب تعلیم کو دوا ہم شاخوں میں تقسیم کیا جا تا تھا جو درج ذیل ہیں۔ 1 آرش: وہ طلبا وطالبات جو آرٹس کے مضامین کا انتخاب کرتے تھے وہ یہ نصاب تعلیم پڑھتے تھے۔ سائنس وہ طلبا طالبات جو سائنس کے مضامین کا انتخاب کرتے تھے وہ سائنس مضامین کا نصاب

سحر نساب سازی و انسٹرکشن (838) بماۓ ایم ایڈ ایم ۔اے ایجوکیشن بہتر مطابقت حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔

پڑھتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج جب تعلیم کے میدان میں تحقیق کامل جاری رہا تو اس کے نتیجے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کا اضافہ ہو گیا ۔ افراد اور معاشرے کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ صرف آرٹ کی تعلیم حاصل کر کے کوئی بھی معاشرہ خوشحال نہیں ہوسکتا اس لئے سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اس میدان کا اہم حصہ بن گئے لہذا اس کے ساتھ ہی نصاب تعلیم کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ہو گیا۔ ان تبدیلیوں کے باوجود مفکرین نے نصاب کی تیاری کے عمل میں معاشرے کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی ہے جن میں جان ڈیوی سب سے نمایاں ہے ۔ مفکرین کا کہنا ہے کہ نصاب تعلیم میں ایسی خصوصیات پیدا کر دی جائیں کہ طلبا و طالبات میں اخوت ،محبت ، ہمدردی ، عدل وانصاف ،مساوات اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا ہو جا ئیں۔اس سے نصاب کی اہمیت کا انداز ولگایا جاسکتا ہے کہ اچھے نصاب 
تعلیم کی مد سے ہم ایک اچھی اور مفیدنسل تیار کر سکتے ہیں۔ ) 0 تدوین نصاب میں معاشرے کا کردار
نمایاں ہے ۔ مفکرین کا کہنا ہے کہ نصاب تعلیم میں ایسی خصوصیات پیدا کر دی جائیں کہ طلبا و طالبات میں اخوت ،محبت ، ہمدردی ، عدل و انصاف ، مساوات اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا ہو جائیں۔ اس سے نصاب کی اہمیت کا انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ اچھے نصاب تعلیم کی مدد سے ہم ایک اچھی اور مفید نسل تیار کر سکتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

Brief History of Educational Psychology🌎🪐|| Who is called the father of ...

What is the Philosophical Foundation of Curriculum Development 😇💖 || Cur...

What are the Characteristics of a Hearing-Impaired Child🦻🏻||