نصاب کا قدیم تصور : نصاب کے قدیم تصور کے مطابق نصاب سے مراد مضامین کی وہ فہرست ہے جو کسی مخصوص جماعت کے طلبہ کو پڑھانے کے لئے مقرر کی جاتی ہے کہ ماضی میں نصاب کا اہم مقصد طلبہ کی پانی نشونما اور حافظے کی تربیت سمجھا جا تا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سارا نصاب بچے کی قوت حافظہ کے گردگھومتا تھا۔ نصاب میں بنیادی تصور یہ پایا جا تا تھا کہ انسان کا دماغ مختلف چینی قوتوں اور صلاحیتوں کا مجموعہ ہے ۔ جوصرف حافظے اور مشق سے فروغ پاتی ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں نصاب کے قدیم تصور میں معلم کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور بچے کی انفرادیت وشخصیت کو ثانوی درجہ دیا جا تا تھا ۔ معلم کی ذمہ داری تھی کہ پہلے سے متعین کردہ نصابی کتب کو مقرر تدریسی مدت کے اندختم کر واد میں اور طلبہ ان مضامین اور کتب کو رٹ لیں ۔ اس طرح نصاب کے قدیم مفہوم کے مطابق نصاب سے مراد صرف دری کتب ہوتی تھیں جنہیں طلبہ کورٹو ادبتا ہی ان کی ہمہ گیر نشو ونما کی ضمانت سمجھا جا تا تھا۔
دوسرے لفظوں میں نصاب سے مراد’دری کتاب کا علم تھا ۔ جس میں جسمانی ، جذباتی یا معاشرتی نشو و نما کوکوئی دخل نہ تھا۔ اسی لئے ماضی قریب تک کھیل کود یا ادبی پروگراموں کو غیر نصا سرگرمیوں میں شمار کیا جا تا تھا ۔ قدیم تصور نصاب کے مطابق نصاب کا دائرہ کار چند سرگرمیوں تک محدودتھا۔
طلباء کی یادداشت اور قوت حافظہ کو تیز کرنا تا کہ وہ رٹالگا کر سبق کو یادکرسکیں اور استاد کے کہنے پر فرفر سناسکیں ۔ مختلف مضامین مثلا انگلش ، ریاضی ،معاشرتی علوم اور سائنس و آرٹ وغیرہ کے مضامین میں مہارت ۔ تعلیمی عمل کا محور و مرکز استاد تھا اور طالب علم کی پسند و ناپسند ، پانی استعداد یا طبعی رجحان
سے کوئی سروکار نہ تھا۔
تمام طلباء کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا تا۔ اور ان کے انفرادی اختلافات کو نظر انداز کر دیا جا تا۔ استاد کا کام محض دری مواد کی منتقلی اورمعلومات کا بہم پہنچاتا تھا۔
طریقہ تدریس زیادہ تر کتاب خوانی تقریری یا املا پرمشتمل ہوتا ۔ اور درسی مواد یاد کروانے کے لئے
دوسرے لفظوں میں نصاب سے مراد’دری کتاب کا علم تھا ۔ جس میں جسمانی ، جذباتی یا معاشرتی نشو و نما کوکوئی دخل نہ تھا۔ اسی لئے ماضی قریب تک کھیل کود یا ادبی پروگراموں کو غیر نصا سرگرمیوں میں شمار کیا جا تا تھا ۔ قدیم تصور نصاب کے مطابق نصاب کا دائرہ کار چند سرگرمیوں تک محدودتھا۔ م
طلباء کی یادداشت اور قوت حافظہ کو تیز کرنا تا کہ وہ رٹالگا کر سبق کو یادکرسکیں اور استاد کے کہنے پر فرفر سناسکیں ۔ مختلف مضامین مثلا انگلش ، ریاضی ،معاشرتی علوم اور سائنس و آرٹ وغیرہ کے مضامین میں مہارت ۔ تعلیمی عمل کا محور و مرکز استاد تھا اور طالب علم کی پسند و ناپسند ، پانی استعداد یا طبعی رجحان
سے کوئی سروکار نہ تھا۔
تمام طلباء کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا تا۔ اور ان کے انفرادی اختلافات کو نظر انداز کر دیا جا تا۔ استاد کا کام محض دری مواد کی منتقلی اورمعلومات کا بہم پہنچاتا تھا۔
طریقہ تدریس زیادہ تر کتاب خوانی تقریری یا املا پرمشتمل ہوتا ۔ اور درسی مواد یاد کروانے کے لئے
SCOPE OF EDUCATIONAL PSYCHOLOGY Educational psychology is applied to the educative process from birth to death of an individual. The educative process includes the following areas of education for the learner: 1. 'Learner.' Developmental characteristics, individual differences, intelligence, personality and mental health. 2. Learning Process. Psychology of learning, motivation of learning, factors affecting learning, diagnosis of learning problems.) Evaluation of Learning Performance. Use of statistical methods in education and conducting research on educational problems. CONTRIBUTION OF EDUCATIONAL PSYCHOLOGY One simple question may be asked as to why should educational psychology be taught to prospective teachers in training colleges? In the following pages, we will examine the contribution of educational psychology to education: Educational psychology helps teachers in the following ways. A. Contribution to the Theory of Education 1. To Understand Developmental Characteristi...
What are the Characteristics of a Hearing-Impaired Child🦻🏻 Hearing plays an important role in student development and daily performance. Hearing impairment occurs when there's a problem with or damage to one or more parts of the hearing mechanism. It is identified as one of the ten most prevalent causes of disability in the United States. The U.S. Department of Health and Human Services (1991) reported that five percent of children 18 years and under have hearing loss. A student with a hearing impairment is part of a heterogeneous group whose one common characteristic is some degree of hearing loss. To effectively teach students with hearing impairment, teachers need to become familiar with hearing-related concepts. The purpose of this chapter is to briefly outline the nature of hearing impairment and provide you with useful current definitions. The chapter will provide you with information on how we hear, how hearing is assessed, ways of iden...
فاصالتی تعلیم ، جسے آن الئن یا ریموٹ لرننگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، نے حالیہ برسوں میں اس کی لچک اور رسائ کی وجہ سے بے حد مقبولیت حاصل کی ہے . تاہم ، اس سے طلباء کے ل unique انوکھے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جیسے تنہائی کے احساسات ، وقت کے انتظام میں مشکالت ، اور اساتذہ اور ہم عمر افراد کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت کا فقدان. ان چیلنجوں سے نمٹنے اور سیکھنے کے کامیاب تجربے کو یقینی بنانے کے لئے ، تعلیمی اداروں نے فاصالتی تعلیم کے دائرے میں طلباء کی مدد کی جامع خدمات کو نافذ کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے. فاصالتی تعلیم میں طلباء کی مدد کی خدمات کے تعارف کا مقصد ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو کیمپس کی روایتی ترتیبات میں دستیاب معاون وسائل کی آئینہ دار ہو . فاصالتی تعلیم میں طلباء کی مدد کے کچھ اہم عناصر یہ ہیں: واقفیت اور جہاز سازی طلباء کو آن الئن سیکھنے کے ماحول میں ہموار منتقلی کی ضرورت ہے. ادارے اکثر طلباء کو ورچوئل لرننگ پلیٹ فارم ، تکنیکی اوزار ، اور مواصالت کے طریقوں سے واقف کرنے کے لئے واقفیت سیشن یا آن الئن سبق فراہم کرتے ہیں. تعلیمی مشورہ بالکل...
Comments
Post a Comment